حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ | اعلیٰ حضرت کے خلفاء قسط نمبر 01
محترم ناظرین کرام، ہمارے اسلاف میں ایک عظیم علمی و روحانی شخصیت جنہیں "اعلیٰ حضرت" اور "مجددِ دین و ملت" کے لقب سے پوری دنیا میں جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ میری مراد شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں ۔ آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ عوام و خواص میں یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے جہاںتصنیف و تالیف اور فتویٰ نویسی کے ذریعے خدمت دین کا عظیم فریضہ انجام دیا وہیں اپنے خلفاء کی ایک جماعت بھی تیار کی جنہوں نے آپ کے مشن یعنی فروغِ دین متین میں آپ کی نیابت کا حق ادا کردیا۔
ناظرین محترم! پروگرام اعلیٰ حضرت کے خلفاء میں ہم آج جس شخصیت کا تذکرہ کرنے جارہے ہیں انہیں خلفائے اعلیٰ میں ایک امتیازی شان حاصل ہے۔ دنیا اُنہیں شہزادہِ اعلیٰ حضرت حجۃ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد حامد رضا خان قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔
ولادت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر و جانشین حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ محمد حامد رضا خان قادری رضوی کی ولادت باسعادت ربیع الاول کے مبارک مہینے میں 1292ہجری/ بمطابق 1875عیسوی میں ہندوستان کے مشہور شہر بریلی شریف میں ہوئی۔
نام:
امام اہلسنت نے آپ کا نام محمد رکھا جبکہ پکارنے کے لئے آپ کا نام حامد رضا تجویز فرمایا۔
تعلیم و تربیت :
آباؤ اجداد کی شاندار روایات کے مطابق حضرت حجۃ الاسلام نے تمام درسی کتب اپنے والد ماجد مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے ہی پڑھیں اور صرف 19سال کی عمر میں ہی فارغ التحصیل ہوگئے۔ امام اہل سنت نے اپنے جانشین کی تعلیم و تربیت اس نہج پر فرمائی کہ آپ علم و فضل اور زہدو تقویٰ کے آفتاب و ماہتاب من کر چمکے۔ عرب و عجم کے علماء آپ کی علمی جلالت پر اش اش کر اٹھتے تھے۔ بالخصوص عربی زبان پر آپ کو کامل عبور حاصل تھا۔ آپ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی اشعار، مضامین اور خطبات تحریر فرمایا کرتے تھے۔ گفتگو بھی نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں فرماتے تھے۔جبکہ فی البدیہہ عربی میں قصائد و نظم کی تدوین تو آپ کے لئے معمولی بات تھی۔
اپنے عہد کے مشہور عالم سید محمد مالکی نے ایک موقع پر کافی دیر تک حجۃ الاسلام سے عربی زبان میں گفتگو کی، وہ آپ کے جملوں کی فصاحت و بلاغت اور روانی سے عربی زبان سے گفتگو کرنے پر حیران ہوکر فرمانے لگے:
"میں نے ہندوستان کی زمین پرمولانا حامد رضا خان جیسا عربی دان (یعنی عربی زبان جاننے والا) نہیں دیکھا"۔
بیعت وخلافت:
حضرت حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پیر خانے مارہرہ شریف کی عظیم شخصیت اور اپنے مرشد کے جانشین حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کرایا اور آپ ہی کے حکم پر اعلیٰ حضرت نے اپنے عزیز تر صاحبزادے حجۃ الاسلام کو تمام سلاسل عالیہ، علوم فنون، اذکار و اشغال اور اوراد و اعمال کی اجازت عطا فرمائی۔
درس و تدریس:
استاذِ زمن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے وصال 1326ہجری بمطابق 1906عیسوی کے بعد دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں صدر مدرس کی حیثیت سے مسند تدریس کو زینت بخشی۔ ساتھ ہی آپ دارالعلوم کے مہتمم کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
آپ کے تلامذہ کی تعداد سینکڑوں سے متجاوِز ہے جن میں سے چند مشہورنام یہ ہیں:
1) حضرت مفتی اعظم ہند مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا خان قادری رضوی بریلوی ۔
2) حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان ابن مولانا حسن رضا خان ۔
3) مفسر اعظم ہند مولانا ابراہیم رضا خان جیلانی ۔
4) محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب۔
5) مولانا مفتی تقدس علی خان قادری رضوی۔
6) صدر المدرسین علامہ غلام جیلانی اعظمی ۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین
اوصاف و اخلاق:
آپ شب پیدار، تہجد گزار، عامل و شاغل بزرگ تھے۔ اپنے والد ماجد کی طرح دنیاوی معاملات سے کنارہ کش رہتے جو وقت عبادت و ریاضت اور اوراد و وظائف سے بچتا وہ دین و مسلک کے استحکام و اشاعت میں صرف فرماتے ہر ایک سے بہت اچھے اخلاق سے پیش آیا کرتے علم دین حاصل کرنے والے طلباء، حاجت مندوں اور فقراء پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ اپنے خدام اور عقیدت مندوں کو بہت نوازا کرتے تھے۔ دین کی خدمت کا کوئی کام دیکھ کر اور اہل سنت کی کوئی انجمن، جماعت یا جمیعت قائم ہونے کی خبر سن کر بے حد خوش ہوتے تھے۔ کبھی کبھی موقع و محل کی مناسبت سے جلال بھی فرمایا کرتے مگر طبیعت میں جمال جلال پر غالب تھا۔ آپ کے اخلاق سے ہر خاص و عام حتیٰ کہ بڑے بڑے علماء و مشائخ بھی متاثر ہوتے اور آپ سے بے حد محبت فرماتے۔
ان باطنی خوبیوں اور محاسن کے ساتھ ساتھ رب العالمین نے آپ کو حسن و جمالِ ظاہری بھی بے مثال عطا فرمایا تھا۔ آپ بہت ہی حسین و جمیل بزرگ تھے۔ آپ کسی محفل میں جلوہ گر ہوتے تو اہل محفل کی نگاہیں آپ پر نثار ہونے لگتی تھیں۔ آپ کے چہرہ کو دیکھتے ہی لوگ کہہ اٹھتے کہ ایسا پرنور چہرہ ہم نے کسی اور کا نہیں دیکھا۔ آپ جہاں تشریف لے جاتے آپ کے پرنور چہرہ اور حسن و جمال کی دھوم مچ جاتی۔ لوگ صرف آپ کا چہرہ دیکھ کر ہی آپ کے گرویدہ ہوجاتے۔ بے شمار بد عقیدہ لوگ صرف آپ کا چہرہ دیکھ کر جادہِ حق سے وابستہ ہوگئے۔اسی حسن و جمال اور دیدارِ پرانوار کی ایک جھلک نے حضرت مولانا سردار احمد صاحب فیصل آبادی کو ایک "اسٹوڈنٹ " سے "صدرالمدرسین ، شیخ الحدیث ومحدث اعظم پاکستان" کے بلند پایہ منصب اور قابل رشک مقام پر پہنچادیا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب حضرت حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم حزب الاحناف لاہور میں جلوہ گر ہوئے تو مولانا سردار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی بار آپ کی زیارت کی اور اس قدر متاثر ہوئے کہ اپنی FSCکی تعلیم چھوڑ کر صرف علم دین کی لگن لے کر آپ کے ساتھ بریلی شریف حاضر ہوگئے۔ یوں صرف ایک تجلی حسن و دیدار نے ایک دنیاوی طالب علم کو کالج کی دیواروں سے نکال کر دارالحدیث کی رونق بنادیا۔
زہد و تقویٰ:
ایک مرتبہ آپ کے جسم پر ایک پھوڑا نکل آیا ڈاکٹروں نے آپریشن ناگزیر قرار دیا۔ عام دستور کے مطابق آپریشن کے دوران مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے لیکن آپ نے ڈاکٹروں پر واضح کردیا کہ میں آپریشن کے لئے نشے والاانجکشن نہیں لگوائوں گا۔ چنانچہ آپ نے ہوش کے عالم میں ہی آپریشن کرایا۔ حالانکہ درد کی شدت کے باعث ہوش میں آپریشن کرانا انتہائی تکلیف دہ امر ہے، جسے برداشت کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ دورانِ آپریشن آپ درود و سلام میں مشغول رہے اور انتہائی تکلیف کے باوجود کسی درد و کرب کا اظہار نہ فرمایا۔ ڈاکٹرز آپ کے صبر و تحمل پر انگشت بدنداں تھےکہ آخر کس طرح آپ نے2گھنٹے کے اس آپریشن میں درد کی شدت کو برداشت کیا۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ درود و سلام کی لذت اور محبوبِ کریم ﷺ کے تصور میں آپ ایسا کھوئے کہ آپ کو کسی درد و تکلیف کا احساس ہی نہ رہا۔
المیہ:
حضرت حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے۔ تصنیف و تالیف اور نعتیہ شاعری سے بھی رشتہ استوار رکھا۔ لیکن مقامِ افسوس یہ ہے کہ آپ کا تحریر سرمایہ بالخصوص آپ کے نعتیہ کلام عدم تحفظ کا شکار ہوکر ضائع ہوگئے اور صرف آپ کی چند کتب اور بیاضِ پاک کے نام سے چند کلام ہی محفوظ رہ سکے۔
آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہونے والوں کی تعداد200,000(دولاکھ) سے زائد تھی۔اعلیٰ حضرت کے وصالِ اقدس ایک ہفتہ قبل جو لوگ بیعت کے لئے حاضر ہوئے ان سے خود اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ:" حامد رضا کا ہاتھ میرا ہاتھ ہے، اِن کی بیعت میری بیعت ہے اوراِن کا مرید میرا مرید ہے"۔
اَنا مِن حَامِد وَ حَامِد رضَا مِنِّی کے جلوئوں سے
بِحَمْدِ اللّٰہ رضا حامد ہیں اور حامدِ رضا تم ہو
وصال پرملال:
17جمادی الاولیٰ1362ہجری کو رات پونے گیارہ بجے عین حالت نماز میں تشہد پڑھتے ہوئے آپ کا وصال ہوا۔ جس وقت آپ کا جنازہ اٹھایا گیا تو ایک حشر بپا تھا لاکھوں کے ہجوم میں ہر ایک کی یہی تمنا تھی کہ اُسے آپ کا آخری دیدار نصیب ہوجائے۔ آپ کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادت آپ کے چہیتے شاگردمحدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار احمد صاحب کو حاصل ہوئی۔ حضور حجۃ الاسلام کی تدفین امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مبارک کے اِحاطے میں کی گئی۔
حضرت حجۃ الاسلام مولانا الشاہ حامد رضا خان قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی کو اگر چند الفاظ میں بیان کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی پوری حیات امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے لیل و نہار کی عکاس تھی۔ علم و فن ہو یا تصنیف و تالیف، مصروفیاتِ خانقاہی ہوں یا آدابِ سحرگاہی ہر جگہ آپ نے اپنے والد ماجد کا جانشین ہونے کا حق ادا کردیا۔
اللہ تعالیٰ کی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت

Comments
Post a Comment